الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایسا آپریشن کہ جس سے جماع پر قدرت نہ رہے

سوال

زید نے زینت سے بارہ سال قبل شادی کی، وہ تین بچوں کی ماں ہے، ابھی زید نے بھی کٹی ٹی آپریشن کرایا ہے، زینت کہتی ہے کہ اس آپریشن کی وجہ سے زید وطی پر قادر نہیں رہ گیا، اور فی الحال اسکے ساتھ رہنے پر راضی نہیں ہے، اور نکاح فسخ کرنا چاہتی ہے، تو فسخ کر سکتی ہے، یا نہیں؟ اور کس صورت میں فسخ کر سکتی ہے؟ اور ایسا آپریشن کرانا جائز ہے یا نہیں؟ اگر اس آپریشن سے کوئی مسلمان مر جائے تو اسکے جنازہ کی نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

ایسا آپریشن کرا لینا جس سے وطی پر قدرت ہی نہ رہے یا اولاد پیدا ہونے کی صلاحیت ہی ختم ہو جائے، ہرگز جائز نہیں، بلکہ سخت گناہ ہے، تاہم اس کی وجہ سے نکاح فسخ نہیں ہوا، اگر زینت اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تو کسی طرح خوشامد کر کے یا لالچ دیکر یا مہر کے عوض شوہر سے طلاق حاصل کر لے یا دوسرے لوگ زید سے طلاق دلوا دیں، ایسا آپریشن کرانیوالا اگر مر جائے تو اسکے جنازہ کی بھی نماز پڑھی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو