تقلید کا ثبوت حدیث سے
سوال
رسالہ اہلِ حدیث دہلی سے شائع ہوتا ہے اس رسالہ میں ۲۱ جون ۱۹۷۳ء کو مولانا آزاد رحمانی نے تقلید کے بارے میں دو حدیث اور ایک آیت قرآنی درج کی ہے اور مذہب احناف پر طعن کیا ہے۔ آیت یہ ہے” إِنَّ هذا صراطی مستقیماً“ اور آیت کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ بلا شبہ دین میں سیدھا راستہ ہے۔ تو اسی راستہ کا اتباع کرو اور دوسرے راستوں پر مت چلو۔ کیوں کہ وہ تم کو اللہ کی راہ سے جدا کر دیں گے۔ احمد، نسائی، دارمی سے مشکوۃ نے اس آیت کے متعلق ایک حدیث نقل کی ہے۔
جواب
چاروں امام بھی حضور اکرم ﷺ ہی کے صراط مستقیم پر ہیں کوئی غلط راستہ پر نہیں، گمراہ نہیں۔ جیسے آمین بالجہر کہنا بھی حضور ﷺ کا راستہ ہے اور آمین بالسر کہنا بھی حضور اکرم ﷺ کا راستہ ہے محدثین نے دونوں قسم کی حدیثیں اپنی کتابوں میں سند کے ساتھ لکھی ہیں۔ اسی طرح رفع یدین اور ترکِ رفع یدین کا حال ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔