مودودی صاحب کا مسلک / چنانچہ فرماتے هیں! / پوری جماعت اپنے مسلک میں آزاد ہے / مودودی صاحب کی آزادی مسلک عطا کرنے کی حقیت / تقلید اہل علم کے لئے درست نہیں / اہل حدیث بھی مقلد ہیں / تقلید کا مفہوم اور عدم تقلید کا اثر / اہل حدیث حضرات کس جرم میں مقلد قرار پائے؟ / تقلید کرنا گناہ بلکہ اس سے بھی شدید تر چیز ہے / مودودی صاحب کا مبلغ علم / دوسرا رخ / امارت کا منصب لیڈر شپ کا منصب ہے / جماعت سے علیحدگی اور امیر جماعت سے انحراف کا مطلب / عجیب تضاد / جماعت اسلامی سے متعلق قاری محمد طیب صاحبؒ کی ایک تحریر اور اس کا جواب قولِ فیصل سے
سوال
حضرت مولانا محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیو بند نے لکھا ہے جو غالباً ۶۹ھ کے کسی مہینہ کے دارالعلوم میں کوائف دارالعلوم کے زیر عنوان موجود ہے اور یہ مضمون رساله زندگی رامپور ۶۹ھ سے لیا گیا ہے جہاں تک احقر کی رائے کا تعلق ہے، یہ صحیح نہیں ہے که مودودی صاحب کا لٹریچر دیکھنے سے ایمان جاتا رہتا ہے، ممدوح نے اسلامی اجتماعیات کے بارے میں نہایت مفید اور قابلِ قدر ذخیرہ فراہم کر دیا ہے۔
جواب
اس میں شک نہیں کہ مودودی صاحب کو مضمون نگاری کا بہت سلیقہ ہے، انگریزی داں طبقہ کی نفسیات سے خوب واقف ہیں، اس لئے کہ خود بھی ایک حصہ عمر کا اس میں گزارا ہے اور گردو پیش میں زیادہ تر ایسے ہی لوگ ہیں مگر ساتھ ہی کلام (عقائد)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔