کیا اقوال صحابہؓ فرقہ بندی کا سبب بنے؟
سوال
آپ کا مختصر سا جواب مجھ جیسے کم علم انسان کی ہدایت کیلئے ناکافی ہے خاص طور سے وہ حدیث جو جناب نے وضاحت کے طور پر تحریر فرمائی ہے یعنی جس طریقہ پر (اعتقادی عملی اخلاقی حیثیت سے) میں ہوں اور میرے صحابہ ہیں جو فرقہ اس طریقہ پر رہے گا نجات پائے گا، جہاں تک مجھ کمترین کا علم ہے کہ فرق اسلام میں کوئی بھی فرقہ ایسا نہیں ہے جو اس کا مدعی نہیں کہ ہم رسول اکرم ﷺ کے طریقہ پر قائم ہیں اور صرف ایک فرقہ کو چھوڑ کر جتنے فرقے اپنے کو مسلمان کہتے ہیں خواہ حقیقی مسلمان نہ ہوں یہاں تک کہ قادیانی بھی کہتے ہیں کہ ہم صحابہ کے عقائد پر…
جواب
آپ کے سوال کا حاصل یہ ہے کہ اقوالِ صحابہ میں تضاد ہے یہ تضاد ہی امت میں فرقہ بندی کا سبب بنا ہے حتی کی امت کے تہتر فرقے ہو گئے، صرف ایک فرقہ ناجی ہے بہتر فرقے جہنمی ہیں، ان میں سب کی نہیں تو زیادہ تر کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف کی گئی ہے، لہذا فرقہ ناجیہ تو وہ ہوگا جو کہ حضور اکرم ﷺ کے طریقہ پر ہوگا نہ کہ وہ جو کہ صحابۂ کرام کے طریقہ پر ہوگا، بہر حال حضور ﷺ نے یہ کیوں ارشاد…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔