ادائے قرض کے لئے میعاد مقرر کرنا
سوال
اس مسئلہ میں وضاحت فرمادیجئے کہ قرضہ کی میعاد مقرر کرنا وصول یابی کی نا جائز ہے؟ کیا قرضہ کا اور اُدھارشئی کا وصول کرنا دونوں برابر ہیں، مجہول وغیرہ تو جائز ہیں؟ جیسے کہ ہفتہ عشرہ میں دے دونگا، ذرا تفصیل سے بیان کر دیجئے؟
جواب
قرضہ کی میعاد وصول کے لئے مقرر کرنے سے وہ میعاد لازم نہیں ہوتی ہے، بلکہ اس سے پہلے بھی مطالبہ کرنے کا حق رہتا ہے، شرعاً قرضہ تو یہ ہے کہ مثلاً دس روپیہ لئے اور وعدہ کیا کہ پندرہ روز میں واپس کر دونگا، اگر کوئی چیز خریدی اور شرط یہ کر لی کہ اسکی قیمت پندرہ روز میں دیگا تو میعاد سے پہلے قیمت دینے پر مجبور کرنے کا اختیار نہیں یہ قیمت شرعاً دین ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔