حقوق طبع تصانیف کی بیع
سوال
بہت سے مصنفین و مؤلفین خود اپنی تصنیف کو یا پھر وہ کسی ادارہ کو اپنی تصنیف فروخت کر دیتے ہیں، تو وہ ادارہ حکومت سے قانونی طور پر اس کے جملہ حقوق اپنے لئے محفوظ کرالیتا ہے، تاکہ دوسرے شخص کے لئے اس کی طباعت کی قانونی طور پر گنجائش نہ رہے، اور رجسٹری کرانے کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے، کہ اس کی آمدنی سے منتفع ہوتے رہیں، چنانچہ شیخ الہند کا ترجمہ کلام پاک تعلیم الاسلام از حضرت مفتی صاحب قدس سرہ، دینی تعلیم کے رسالے از الجمعیۃ بکڈ پو وغیرہ کئی مثالیں ایسی ہیں کہ جن کے حقوق طبع محفوظ ہیں، اور جن کی طباعت بلا اجازت قانونی جرم…
جواب
فتاوی رشید یہ کامل مطبوعہ کراچی،ص ۴۲۷ میں ہے۔ (سوال) حق تصنیف کتب کا ہبہ یا بیع یا ممنوع کرنا جائز ہے یا نہیں؟ (جواب) حق تصنیف کوئی مال نہیں، جس کا ہبہ یا بیع ہو سکے،لہذا یہ باطل ہے، ”ولا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة اشباه لهذا (۱) یہ بے اثر ہے، (۲) اجازت ہے، (۳) درست نہیں، (۴) مجھے علم نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔