گڈول کی شرعی حیثیت
سوال
ایک کتابوں کی دوکان ہے جسکا نام رحمانیہ لائبریری ہے، دور دراز کے مقامات سے کتابوں کے آرڈر آتے ہیں، اس دوکان رحمانیہ لائبریری کے دو بھائی مالک ہیں، یہ رحمانیہ لائبریری دونوں بھائیوں کے باپ نے قائم کی تھی، اب یہ دوکان آپس میں تقسیم کرنی ہے، مال یعنی کتابیں شریعت اسلامیہ کے قانون کے مطابق تقسیم کر لیجائیں گی لیکن نام کا مسئلہ باقی رہ جاتا ہے، اسلئے جناب والا سے دریافت یہ ہیکہ شریعت اسلامیہ میں گڈول یعنی نام کی کیا حیثیت ہے؟
جواب
گڈول یعنی نام در حقیقت مال نہیں بلکہ بمنزلہ حیثیت عرفیہ کے ہے، جس کی کوئی قیمت نہیں ہے قانون نے اس کو جو کچھ حیثیت دی ہے، وہ شریعت کی رو سے فتوی لیکر نہیں دی ہے، اس لئے یہ باہمی رضا مندی سے معاملہ طے کر لیا جائے، جو بھائی حکم شرع کی قدر کرتے ہوئے عمل کرے گا، انشاء اللہ تعالیٰ نقصان میں نہیں رہے گا، ایثار سے کام لینا دنیا و آخرت میں بہت زیادہ عزت و منفعت کا ذریعہ ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔