الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

وظیفہ (پنشن) کی بیع

سوال

احقر وظیفہ خور مدرس ہے اصل وظیفہ ساڑھے پانچ روپیہ اور ساڑھے چھ روپیہ اور گرانی الاؤنس جملہ اکسٹھ روپیہ پچاس روپے ماہانہ وظیفہ حکومت ہند سے ہے اور تھوڑی سے جائیداد اور صرف کاشت کی زمین ہے اب میں چاہتا ہوں کہ اپنے ملنے والے وظیفہ کا تھوڑا حصہ سرکار میں فروخت کر کے حج کرلوں براہ کرم مطلع فرمائیں، کہ ایسا حج جائز ہو سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

یہ فروختگی نا جائز ہے، نا جائز مال سے حج کرنے سے حج مقبول نہیں ہوتا، اگرچہ فریضہ ادا ہو جاتا ہے لیکن اگر سر کا ر ہی وظیفہ دیتی ہے، اور سرکار ہی خریدے تو محض صورۂ بیع ہے حقیقہ بیع نھیں بلکہ جو وظیفہ وہ ماہانہ دیتی ہے اس کے عوض اپنے تخمینہ سے برضا مندی وظیفہ خوار کو یکمشت دے دیتی ہے، اس میں مضائقہ نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو