الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دھان میں پانی ملا کر فروخت کرنا

سوال

فی الحال گاؤں میں چالیس روپے کا ایک بورہ دھان فروخت ہوتا ہے، بیو پاری لوگ مالک سے دو روپیہ زیادہ دے کر خریدتے ہیں یعنی نقد بیالیس روپیہ سے خریدتے ہیں، پھر بیو پاری لوگ اس دھان میں پانی ملا کر آڑھت والے کو فروخت کرتے ہیں، اب لوگ کہتے ہیں کہ مالک جانتا ہے کہ بیو پاری اس دھان میں پانی ملا کر فروخت کرے گا، تو اس مالک کی بیع نا جائز ہے کیونکہ وہ جاننے کے باوجود بیو پاری کو دیتا ہے، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ جب نقد روپے سے بیچ ہو رہی ہے تو نا جائز نہیں ہے، اب کہنا یہ ہے کہ مالک کے جاننے کے باوجود بیو پاری کو وہ مال فروخت…

جواب

اس علم کے باوجود مالک کے لئے بیو پاری کے ہاتھ اصل دھان کا فروخت کرنا درست ہے، بیو پاری اگر اس میں پانی ملا کر دھوکہ دے کر فروخت کرے گا، تو وہ خود گنہگار ہوگا ”من غشنا فليس منا الحدیث، اصل مالک قدیم پر اسکا گناہ نہیں ہوگا “ولا تزر وازرة وزراخری”

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو