الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تمبا کو میں رہی ملا کر فروخت کرنا

سوال

زید مدت سے تمباکو کی تجارت کرتا ہے پہلے ہر جنس کا نرخ ارزاں تھا اس لئے تمباکو میں صرف شیرہ ملا کر فروخت کرتے تھے، اس وقت تمبا کو دوسیر فروخت کر کے بھی مزدوری ہاتھ آجاتی تھی لیکن جب سے ہر چیز کی گرانی ہوئی ہے، ہر طرح کی دشواری ہوگئی ہے، تمبا کو پر سرکاری ٹیکس اور تاوان اور زیادہ ہو گیا ہے، اس لئے زید بہ مجبوری تمبا کو میں رہی ملا کر ۴ رسیر کے نرخ سے فروخت کر رہا ہے، اس کے سوا خالص تمبا کو بھی بناتا ہے، چونکہ اس کا نرخ مہنگا ہے، اس لئے اس کی بکری بہت کم ہوتی ہے، اکثر خریداروں کو رہی کا ملانا بھی معلوم ہو گیا ہے،…

جواب

اگر خریداروں پر ظاہر کر دیتا ہے کہ اس میں رہی بھی ہے یہ خالص نہیں تو درست ہے اور اگر اس کو خالص کہہ کر فروخت کرتا ہے، تو یہ دھوکہ ہے جو نا جائز اور گناہ ہے

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو