الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دودھ میں پانی ملا کر بیچ کرنا

سوال

میں ایک دوکاندار ہوں اور دودھ کے بیچنے کا کام کرتا ہوں اور اس دودھ میں پانی ملا کر بیچتا ہوں، جب کہ اگر مجھ سے کوئی پوچھتا ہے کہ اس میں پانی ملائے ہو یا نہیں، تو میں اس سے فوراً کہہ دیتا ہوں کہ ہاں میں پانی ملاکر بیچتا ہوں، مگر میں کسی کو مقدار نہیں بتاتا ہوں، تو آپ یہ بتائیے کہ دودھ میں پانی ملا نا جائز ہوا ہے یا نہیں؟

جواب

جو آدمی دودھ خریدتے ہیں وہ دودھ کی قیمت دیتے ہیں، اور دودھ کہہ کر خریدتے ہیں، اگر چہ آپ سے یہ دریافت نہ کریں کہ آپ پانی ملاتے ہیں، یا نہیں، مگر معاملہ دودھ ہی کا کرتے ہیں اس لئے آپ اس میں پانی نہ ملائیں اگر ملانا ہو تو خریداروں پر ظاہر کر دیں کہ اس میں اتنا پانی ہے پھر جس کا دل چاہے خریدے نہ دل چاہے نہ خریدے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو