دودھ میں پانی ملا کر بیچنا
سوال
آج کل جو لوگ دودھ کی تجارت کرتے ہیں دودھ میں پانی ملا کر بیچتے ہیں، کچھ بھینسوں والے پانی ملا کر دوکانداروں کو دیتے ہیں، پھر دوکاندار اس میں اور پانی ملا کر بیچتے ہیں اس لئے دودھ میں مزا بھی نہیں رہتا ہے، اگر دوکانداروں کو کہتے ہیں کہ بھائی جب ۱۵ اور ۲ رسیر کے دام لیتے ہیں، تو دودھ میں پانی ملا کر نہ دو اس پر یہ جواب ملتا ہے کہ ہم پانی ملا کر ہی دیں گے، تمہارا جی چاہے لو یا نہ لو اس پر انہوں نے جواز کا فتوی گھڑ رکھا ہے، کہ ہم تو کہہ کر دیتے ہیں چونکہ ضرورت مند جیسا ملتا ہے، یہ مجبوری لیکر کھا پی لیتے ہیں لیکن دل…
جواب
جب وہ دھو کہ نہیں دیتے بلکہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے اس میں پانی ملا رکھا ہے، تو شرعاً درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔