حرام کے پیسہ کے عوض بیع کرنا
سوال
دوکانداروں کے پاس خریدار سود، رشوت، قمار، سرقہ سبھی قسم کا پیسہ دے کر چیز خریدتے ہیں، یہ پیسہ جو مبیع کے بدل میں بائع کو حاصل ہو رہا ہے حلال ہے یا نہیں، اور اس سے مفر بھی آج کا مشکل ہے۔ بینوا توجروا؟
جواب
جس پیسہ کے متعلق قطعی طور پر علم ہو کہ یہ حرام ہے اس کے عوض کوئی شئی فروخت کرنا اور وہ پیسہ حاصل کرنا درست نہیں، جہاں علم نہ ہو وہاں گنجائش ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔