غلہ بیچتے وقت مٹی کی قیمت لگانا
سوال
تاجروں کی عادت ہے جب کسی سے مال خریدتے ہیں چونکہ عام طور پر غلہ میں مٹی ہوتی ہے، اس لئے اس کے عوض میں ہر ایک من غلہ کے اوپر مثلاً ایک کلو غلہ دوسرے کو فروخت کرتے ہیں، تو مٹی کے عوض کچھ بھی نہیں دیتے بلکہ مشتری اگر مانگتا ہے تو تاجر کہتا ہے کہ یہ تو تاجروں کی عادت ہے، اس لئے مٹی کے عوض میں کچھ بھی نہیں ملے گا، دریافت طلب یہ ہے کہ آیا تاجروں کا ایسا معاملہ کرنا جائز ہے کہ نہیں؟ اگر جائز نہیں تو جواز کی کیا شکل ہے؟
جواب
یہ نا انصافی ہے تاہم اگر طرفین اس پر رضا مند ہو جائیں تو بیع درست ہو جائے گی لعدم المفسد۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔