تمباکو کی کاشت، تجارت اور استعمال
سوال
ہمارے یہاں تمباکو کی کاشت ہوتی ہے پھر اس کی تجارت ہوتی ہے، کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کسی مؤمن کیلئے مناسب نہیں کہ اپنے آپ کو ذلیل کرے۔ ترجمه: کسی مومن کیلئے مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو ذلت میں ڈالے۔ اس میں سب مبتلا ہیں، یعنی مسلم اور غیر مسلم کاشت کر کے ایک دوسرے کے ہاتھ فروخت کرتے ہیں، اور استعمال کے بارے میں کچھ لوگ حرام بتاتے ہیں، کچھ لوگ مکر وہ کہتے ہیں، تو شرعاً کیا حکم ہے؟ کاشت اور تجارت اسی طرح استعمال کے بارے میں وضاحت فرمائیں؟
جواب
تمباکو کی کاشت بھی جائز ہے، تجارت بھی جائز ہے، استعمال بھی جائز ہے، الا یہ کہ وہ نشہ آور ہو تب منع کیا جائے گا۔ مسجد میں جانے کیلئے منہ صاف کر کے اسکی بد بوکو زائل کرنے کا اہتمام کیا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔