شعار کفار کی خرید وفروخت
سوال
ہمارے ملک برما میں ہندو مسلم کی مشترکہ آبادی ہے، اور ہندؤں کے یہاں ایک رسم رائج ہے وہ یہ کہ جب ان میں کی کوئی اولاد حد بلوغ کو پہنچ جاتی ہے تو اس کے سرمنڈوادیتے ہیں، اور ایک کپڑا بطور کفنی کے بمقدار تیرہ ہاتھ لمبائی کے ہلدی سے رنگ کر اس لڑکے کو پہنا دیتے ہیں، پہنانے کے بعد کسی مندر کے سادھو کو دیتے ہیں، اس قسم کے کپڑے کو برہمی زبان میں پھونچی تنگا (سادھو کا لباس)
جواب
کپڑے کی خرید و فروخت مسلمان کے لئے شرعاً درست ہے، پھر کفار اس کو خرید کر اور رنگ کر جس طرح اور جس کام کیلئے چاہیں استعمال کریں مسلمان پر اسکی کوئی ذمہ داری نہیں اور مخصوص طور پر ایسا کپڑا بھی فروخت کرنا درست ہے جو کہ مخصوص ہے اور سادھوؤں کا شعار ہے شریعت اسلامیہ کے نزدیک یہ کفار کا شعار کچھ اعزاز کی چیز نہیں بلکہ وضع کے اعتبار سے اس میں ان کی تذلیل ہے، وفی المحیط لايكره بيع…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔