پیر کا فوٹو یا مجسمہ رکھنا اور اس پر نذر چڑھانا / مصنوعی قبر پر پھول، چادر چڑھانا
سوال
اکثر مقامات پر مصنوعی قبریں بنا کر چادر وغیرہ چڑھاتے ہیں، کیا مصنوعی قبروں پر ایسا کرنا جائز ہے، ایسے لوگ مثال دیتے ہیں کہ حضور ﷺ نے دو قبروں پر کھجور کی سبز ٹہنی گاڑ دی تھی، وہ تو قبر والوں پر عذاب ہو رہا تھا، لہٰذا اس کا منشاء اور تھا لیکن اس جگہ تو زینت کے لئے پھول وغیرہ چڑھاتے ہیں؟
جواب
مصنوعی قبروں کو بنا کر مخلوق کو دھوکا دینا ہے، جو کہ معصیت ہے، اور قبروں پر پھول وغیرہ چڑھانا درست نہیں ہے، حدیث شریف میں نبی کریم ﷺ سے دو قبروں پر شاخ گاڑنا منقول ہے، وہ بھی اسلئے کہ ان دونوں پر عذاب قبر ہورہا تھا وہاں نبی کریم ﷺ کے دست مبارک کی برکت شامل تھی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔