فدية صوم وصلوٰة کا رواج
سوال
ہمارے یہاں عام رواج ہے کہ سن بلوغ کے بعد کسی کا انتقال ہو جائے تو آدھا من پانچ سیر گیہوں اور ایک قرآن شریف بطور صدقہ نکالتے ہیں، متوفی خواہ امیر ہو یا غریب فاقہ کش، سب کے لئے یہی دستور رائج ہے، گیہوں کے ٹوکرے فقیر کے سر پر چڑھا کر جنازہ کے آگے کر دیتے ہیں، بعد نماز جنازہ گیہوں کے ڈھیر کر کے دس بارہ فقیر اور ملاں بیٹھ کر حیلہ کرتے ہیں، حیلہ کے وقت ملاں صاحب اس طرح فرماتے ہیں، صوم و صلوۃ واجبات جو اس مردے سے قضا ہوئے ہیں اس کی طرف سے یہ کفارہ میں نے قبول کر کے تم کو بخشا، دائرے والے بھی یکے بعد دیگرے اسی طرح کہتے…
جواب
طریقہ مذکورہ بدعت و نا جائز ہے، اصل بلکہ خلاف اصول شرع ہے، نفس ایصال ثواب بغیر التزام تاریخ وروز و ہیئت وغیرہ مستحسن اور باعث راحت میت ہے، خواہ کچھ قرآن کریم پڑھ کر یا نماز روزہ عبادات کر کے یا غرباء مساکین کو نقد غلہ کپڑا وغیرہ دیکر یا مسجد، مدرسہ میں کنواں وغیرہ بنا کر ہو، اور طریقہ مذکورہ میں چند خرابیاں ہیں، اول یہ کہ اس کو لازم اور ضروری سمجھا جاتا ہے حتی کہ اگر اس کو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔