بچوں کی روزہ کشائی
سوال
رمضان میں اکثر چھوٹے بچے کو روزہ رکھوا کر روزہ کشائی کرواتے ہیں اور اپنے گھروں پر بہت اہتمام کرتے ہیں، ایسی جگہ روزہ کھولنے جانا چاہئے یا نہیں؟ کیا صحابہ کے زمانہ میں بھی ایسا رواج تھا روزہ کشائی کا؟
جواب
روزہ میں مشقت زیادہ ہوتی ہے، بچہ کا دل بڑھانے کے لئے نیز شکریہ کے طور پر اگر نسبة افطاری میں کچھ زیادتی کر لی جائے تو بظاہر گنجائش ہوتی ہے، دور صحابہ کرام میں اس کا پتہ نہیں چلتا، جس میں ریا اور نمود یا فخر ہو یا وسعت سے زیادہ قرض وغیرہ لیکر اہتمام کرنا خلاف شرع اور نا جائز ہے، ایسی حالت میں شرکت بھی منع ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔