سوئم چهلم وغیره
سوال
میت کے وارث کامیت کے نام پر چوتھے روزے دسواں و بیسواں وپندرہواں اور مولوی صاحبان و طلبہ کو کھانا کھلانا ان ایام مقررہ میں ایصال ثواب کیلئے شرع سے ثابت ہے یا نہیں، کیا کوئی دن شریعت کی جانب سے مقرر ہے، تا کہ ایصال ثواب کریں؟
جواب
ایصال ثواب بہت اچھی چیز ہے، خواہ نماز قرآن شریف تسبیح وغیرہ پڑھ کر ہو یا غرباء کو کھانا کپڑا وغیرہ کچھ دیکر ہو لیکن تیجہ دسواں، بیسواں، چالیسواں، شرعاً ثابت نہیں، بلکہ ایصال ثواب، جس قدر جلد ممکن ہو بہتر اور نافع ہے، اور یہ دسواں وغیرہ جو کچھ ہے محض رسم اور بدعت ہے جو کہ واجب الترک ہے اگر ورثا نا بالغ ہوں تو میت کے ترکہ میں سے بغیر وصیت بلا تقسیم دینا درست نہیں ہے تقسیم کے بعد…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔