ليلة القدر اور لیلۃ البراءت میں چراغاں کرنا
سوال
شب براءت اورلیلۃ القدر میں ضرورت سے زائد روشنی کی جاتی ہے، اور اس کے لئے چندہ کرتے ہیں، یہ حرکت جائز ہے یا نہیں؟ اور چندہ دینے والوں کو ثواب ہو گا یا نہیں؟ اگر مسجد یا بیت المال سے خرچہ ہو تو متولی کو گناہ ہو گا یا سب نمازیوں کو؟
جواب
ليلة القدر اور لیلۃ البراءت میں ساری رات روشنی کرنا اور وہ بھی ضرورت سے زیادہ یعنی چراغاں کرنا ثابت نہیں، شرعاً نا جائز ہے حرام ہے، جیسا کہ الحموی، شرح الاشباہ والنظائر اور تنقیح فتاوی الحامد یہ میں بصراحت مذکور ہے، مسجد کے وقف کے مال سے جو ایسا کرے گا، اس کے ذمہ ضمان لازم ہوگا، اگر متولی ایسا کرتا ہے تو نمازیوں کو لازم ہے کہ اس کو فہمائش کریں، روکیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔