الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شب براءت کا حلوا

سوال

حلوہ بنانافی نفسہ مباح ہے جس پر خاص و عام سے متفق ہیں لیکن شب براءت ۱۴ شعبان المعظم کو حلوہ تیار کرنا اسی دن کی خصوصیات پر جو کہ ضروریات کی بناء پر تیار کیا جاتا ہے، قولاً یا عملاً جیسا کہ مشاہدہ ہے، جس کے بارے میں اصلاح الرسوم مصنفہ حضرت مولانا تھانوی (چھوٹی تختی) ص ۱۳۸-۱۳۹ار پر جو کچھ لکھا ہے، اس کے مطالعہ سے اتنا مفہوم ہوتا ہے، کہ شب برات کے روز عوام الناس کے مفاسد کثیرہ میں ابتلاء عام کے پیش نظر حلوہ تیار کرنا گناہ ہے، جس کی اس روز شرعی نقطۂ نظر سے بالکل اجازت نہیں دی گئی ہے۔ (۲)

جواب

جو چیز شرعاً ضروری نہ ہو اس کو ضروری سمجھنا اور امر مباح کے ساتھ واجب یا سنت جیسا معاملہ کرنا درست نہیں، اس سے وہ چیز مکروہ ہو جاتی ہے، ”كل مباح يؤدى الى زعم الجهال سنية امرا ووجوبه فهومكروه كتعيين السورة للصلواة وتعيين القراءة لوقت كذا في تنقيح الفتاوى الحامدیه“ بلکہ امر مستحب پر بھی إصرار کی اجازت نہیں، الاصرار على المندوب يبلغه الى حد الكراهة»، (سباحة الفكر)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو