اصلاح کی نیت سے بدعتیوں کے ساتھ امام صاحب کی کھانے میں شرکت
سوال
ایک شخص جو کہ عالم بھی ہیں، اور جائز نا جائز سے بھی اچھی طرح واقف ہیں، وہ ایک جگہ پر امامت کرتے ہیں، مقتدی ان کے اکثر بدعتی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں، اور مروجہ تیجہ، چالیسواں وغیرہ سب کچھ کرتے ہیں، یہ عالم صاحب بجائے ان کو منع کرنے اور سمجھانے کے خود بھی خندہ پیشانی کے ساتھ ان کے جملہ مبتدعہ رسومات میں شریک ہوتے ہیں، اور دعوت وغیرہ کا کھانا وغیرہ بھی کھاتے ہیں، جب ان سے دوسرے لوگوں نے سمجھانے کے طور سے کہا تو جواباً فرمایا کہ آپ بھی تو بے نمازی داڑھی منڈوں کے ساتھ کھاتے ہیں، پس جس طریقہ سے وہ نا جائز یا حرام ہے، اسی…
جواب
(۱) ناجائز رسوم وبدعات میں شرکت کرنا مداہنت اور ممنوع ہے، ”ولا تقعد بعد الذكرىٰ مع القوم الظالمين الاية“ اس سے ان بدعات کو فروغ ہوتا ہے، حالانکہ ان کی اصلاح لازم ہے، (۲) داڑھی منڈانا حرام ہے لیکن جو شخص داڑھی منڈے کے ساتھ کھانا کھاتا ہے وہ کھانا کسی رسم قبیح اور بدعت کا کھانا نہیں، بلکہ اگر اصلاح کی نیت ہو اور نرمی سے سمجھایا جائے، تو اخلاق سے متاثر ہو کر اصلاح کی توقع ہے، اس…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔