اصلاح کی خاطر بدعات میں شرکت
سوال
بعض مقامات پر دیوبندی بریلوی سے قطع نظر ہو کر صرف آبائی تقلید کی وجہ سے بعض بدعات اس طرح گھٹی میں پڑی ہیں کہ اگر منع کریں تو مانع کو خارج از محبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھتے ہیں، تو ان کی اصلاح کی خاطر بہ نیت اصلاح داخل ہو جائیں، اور بدعات کو اختیار کر لیں، اور شدہ شدہ سنت کے طریق پر لانے کی کوشش کریں، تو یہ مستحسن ہو گا یا نہیں؟
جواب
بدعات میں کسی کی خاطر شرکت کرنے کے بعد شدہ شدہ اصلاح کرنا دشوار ہو جاتا ہے، بلکہ بدعات کا بدعات ہونا بھی ذہن سے نکل جاتا ہے، پھر اصلاح کا خیال بھی نہیں رہتا، اگر رہا بھی تو جس چیز کو اپنے عمل سے پختہ کر دیا گیا ہے، اس سے عوام کو منع کرنے کی ہمت باقی نہیں رہتی اگر منع کیا جائے، تو لوگ ہرگز تسلیم نہیں کرتے، بلکہ ایسے مقتدا کو غیظ کی نظر سے دیکھتے ہیں، اور اس کی سخت مخالفت کرتے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔