کیا غیر ثابت چیزیں بھی خیر ہیں
سوال
کوئی ایسا امر جو بظاہر بہت اچھا ہے مگر وہ سنت یا صحابہ، تابعین سے ثابت نہیں، مگر عوام میں برسہا برس سے چل رہا ہے، اور اس کے ذریعہ لوگوں میں ایک طرح کی اجتماعیت پائی جاتی ہے، یعنی وہ چیز ان میں جوڑ پیدا کرتی ہے، کیا اس کو بدعت ہونے کے باوجود مٹانا چاہئے یا نہیں، جیسے میلاد، دعا ثانیہ، فاتحہ بعد صلوۃ وغیرہ۔
جواب
محض اجتماع عنداللہ مطلوب ومقصود نہیں، بلکہ خیر وسنت پر اجتماع مطلوب ومقصود ہے، اس لئے حسن تدبیر، شفقت ودلسوزی سے ان کو راہِ راست پر لانے کی ضرورت ہے، ان کو سمجھایا جائے، کہ جس کام سے اللہ پاک اور اس کے رسول مقبول ﷺ راضی ہوں وہ کام مسلمان کو کرنا چاہئے، وہی دین وہی ذریعہ نجات ہے، وہی وفاداری کا ثبوت ہے، اور حضرت رسول اکرم ﷺ نے جس کام کو دین نہ فرمایا ہو اور اس پر ثواب نہ بتایا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔