روزانہ ایک پیسہ رات کو امانت رکھ کر صبح کو واپس لینا
سوال
زید ایک محلہ میں رہتا تھا بکر نے اسی محلہ میں دوکان پرچون کی کر رکھی تھی، زید اکثر بکر کی دوکان سے ضروریات کی اشیاء خریدتا ہے ایک روز زید نے بکر کی دوکان سے کچھ سودا ایک پیسہ کا خریدا سودا لیکر یہ کہدیا کہ پیسہ صبح دیدونگا زید جب نماز فجر پڑھ چکا اس وقت بکر کو وہ پیسہ حسب وعدہ دیدیا پھر شام کو بکر نے کہا بھائی زید ایک پیسہ میرا امانت رکھو، جب صبح نماز پڑھ چکو مجھ کو دیدینا زید نے ایسا ہی کیا، پھر بکر روز ایسا کرنے لگا شام کو ایک پیسہ دیدیتا اور صبح کو لے لیتا، زید کے دل میں خیال ہوا کہ شاید بکر کچھ شگون کرتا ہو…
جواب
اگر قرائن قویہ سے معلوم ہو جائے کہ بکر کوئی شگون کرتا ہے تو زید کو ہرگز اس کا کہنا نہیں ماننا چاہئے، بلکہ انکار کر دینا چاہئے کیونکہ اس میں اعانت علی المعصیت ہے ”تعاونوا علیٰ البر والتقوى ولا تعاونوا على الاثم والعدوان“ اگر کسی طرح بکر کی نیت کا علم نہ ہو تو تب بھی چونکہ احتمال شگون ضرور ہے بلکہ غالب ہے لہٰذا احتراز کرنا چاہئے۔ لقولہ علیہ السلام ”دع مایریبک الی مالا یریبک“
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔