حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم
سوال
بہار شریعت، ص ۱۶۷ / حصہ ششم میں ہے امام محمد بن حاج مکی مدخل میں اور امام احمد قسطلانی مواہب لدنیہ اور ائمہ دین رحمہم اللہ تعالیٰ اجمعین فرماتے ہیں” لا فرق بين موته وحياته صلى الله عليه وسلم في مشاهدته لامته ومعرفته باحوالهم ونياتهم وعزائمهم وخواطرهم وذلك عنده جلی لاخفاء به“ ترجمه: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات ووفات میں اس بات میں کوئی فرق نہیں ہے کہ وہ اپنی امت کو دیکھ رہے ہیں اور ان کی حالتوں ان کی نیتوں، دلوں کے ارادوں اور دلوں کے خیالوں کو پہچانتے ہیں اور یہ سب حضور پر ایسا روشن ہے جس میں اصلاً پوشیدگی…
جواب
اس میں شک نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے حیات برزخی ثابت ہے، شہداء کے متعلق بھی قرآن کریم میں وارد ہے ”ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله امواتاً بل احياء عند ربهم الآیة،، اور انبیاء کی حیات شہدا کی حیات سے اقوئی ہے، مگر اس سے یہ اور لازم نہیں آتا کہ عام امت کے جمیع احوال کا آپ کو بطور مشاہدہ علم ہوتا ہے، ایسا علم تو آپ کو حیات دنیوی میں بھی نہیں تھا، ایسا عقیدہ رکھنا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔