حیات انبیاء علیہم السلام
سوال
(۱) حیات انبیاء علیہم السلام کے بارے میں احادیث صحیحہ نے کیا فرمایا ہے؟ کیا اسی قبر میں جہاں انبیاء علیہم السلام کے اجسام مبارکہ دفن کئے گئے ہیں، اسی دنیوی جسد مبارکہ کے ساتھ اسی قبر میں زندہ ہیں؟ روح مبارک رفیق اعلیٰ کے مقام میں ہے یا اسی جسد مبارک میں احادیث میں انبیاء علیہم السلام کا قبور میں نماز پڑھنے کا ذکر آیا کیا وہ نماز اسی جسد اطہر مبارک کے ساتھ پڑھتے ہیں یا کسی اور صورت میں تمثیلی ارواح سے، نیز انبیاء علیہم السلام کی حیات روح مع الجسد کہنے والے کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ (۲)
جواب
انبیاء علیہم السلام کے اجسام طیبہ کو مٹی نہیں کھا سکتی وہ محفوظ ہیں، اور بیہقی میں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان کا جسم بھی ان کی قبر میں چالیس روز سے زائد نہیں رکھا جاتا بلکہ ان کو اٹھا لیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ جہاں چاہتے ہیں ان کو رکھتے ہیں، جب ان کا اصلی جسم موجود ہے تو جسم مثالی کی ضرورت نہیں، بلکہ یہی جسم ان کے ساتھ رہتا ہے، حضور ﷺ کو دیگر خصوصیات بھی حاصل ہیں۔ (۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔