غیر پابند شریعت سے اگر خرق عادت صادر ہو تو بھی پرہیز چاہئے
سوال
کیا اس طریقہ پر مجمع لگانا کہ جو نہ تو کبھی ہوا ہو اور نہ اس کا ثبوت قرون اولیٰ سے ملتا ہو، اور ایسا آدمی جو کہ شریعت کا پابند بھی نہ ہو، وضع قطع بھی اس کی خلاف سنت ہو، اور دین کی اس کو کوئی معلومات بھی نہیں ہے، مگر اس نے ایسے طریقہ پر لوگوں کو جمع کرنا اور پھونکنا شروع کر دیا ہے جس سے بہت سے مسلمانوں کے عقائد بھی خراب ہو رہے ہیں، اور پھر اس بات کی بھی تعیین نہیں ہے، کہ وہ کیا پڑھتا ہے؟ اب ایسی صورت میں ایسے لوگوں کے پاس جانا ان سے عقائد سیکھنا کیسا ہے؟ کیا ایسے لوگوں سے احتراز کرنا چاہئے؟
جواب
کلام اللہ شریف اور حدیث پاک کی دعا پڑھ کر دم کرنا دفع مرض اور حفاظت کے لئے شرعاً درست اور قرون اولی سے ثابت ہے، اللہ تعالیٰ نے اس میں تاثیر بھی رکھی ہے لیکن خداوند تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبولیت کا یہاں تیقن کے ساتھ کچھ پتہ نہیں، ہاں جو شخص جس قدر زیادہ عقائد حقہ، اخلاق فاضلہ، اعمالِ صالحہ اور اخلاق واتباع سنت کے ساتھ متصف ہوگا، انشاء اللہ تعالی اسی قدر عظیم المرتبت ہوگا، اس…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔