الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

انبیاء کرام کو پکارنا

سوال

بعض لوگ مصیبت اور حاجت کے وقت انبیاء علیہم السلام یا اولیاء کرام کو دور سے بطور استمداد پکارتے ہیں، اور اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ سنتے ہیں اس صورت سے کہنا جائز ہے یا نہیں اور اس اعتقاد والے کا کیا حکم ہے، دور سے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہنا یا نماز میں ایہا النبی پڑھنا اور یہ اعتقاد رکھنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری پکار سن رہے ہیں، اور خبر دار ہوتے ہیں، ایسے اعتقاد والے پر کیا حکم ہے؟

جواب

یہ عقیدہ بھی اسلام کے خلاف ہے جب ایسا عقیدہ حضور ﷺ کے متعلق رکھنا کفر ہے تو کسی اور نبی یا ولی کے متعلق کیسے درست ہوگا، یا رسول اللہ اس عقیدہ سے کہنا کہ ہر جگہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس آواز کو خود سنتے ہیں نا جائز ہے۔ اور اس عقیدہ سے کہنا کہ ملائکہ آپ کو اس کی اطلاع کرتے ہیں درست ہے۔ لیکن عوام کے عقائد میں ضرور اس سے فساد آتا ہے، لہذا اس سے بچنا چاہئے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو