الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مقروض کے ذمہ قرض کی ادائیگی ہے یا صدقہ نفل

سوال

ایک شخص سو روپیہ سے تجارت کرتا ہے، اور چھ سو روپیہ کا مقروض ہے، کیا اس قرض کی صورت میں کسی مدرسہ یا مسجد وغیرہ کی کچھ امداد کرنا چاہے تو کر سکتا ہے یا نہیں؟ مقدم قرض کی ادائیگی ہے اور امداد کی صورت میں ثواب کا مستحق ہے کہ نہیں؟

جواب

یہ چندہ نفل کے درجہ میں ہے، اور قرض ادا کرنا فرض ہے، اگر فرض ذمہ میں باقی رہتے ہوئے کوئی شخص نفل پڑھتا تو اس کو ثواب بھی ملتا ہے اور فرض کی تاخیر پر باز پرس بھی ہے، لہذا یہ کہنا کہ ثواب نہیں ملے گا صحیح نہیں، البتہ قرض کی ادائیگی کا اہتمام چاہئے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو