مسجد میں ریح خارج کرنا
سوال
جو لوگ مسجد میں مسافر طالب علم وغیرہ نمازی وغیرہ بیٹھے رہتے ہیں، یا سو جاتے ہیں، ان کی وہاں ریح قصداً یا بلا قصد خارج ہو جاتی ہے، تو کیا یہ ادب مسجد کے خلاف ہے، یہ جو مشہور ہے کہ اگر کسی کی مسجد میں ریح خارج ہو جاتی ہے تو اس کو فرشتے اپنے منہ میں لے کر باہر پھینکتے ہیں یہ کہاں تک صحیح ہے؟
جواب
احتیاط اور ادب یہ ہے کہ مسجد میں قصداً ریح خارج نہ کرے بلکہ مسجد سے باہر جا کر خارج کرے اگر سوتے یا جاگتے میں بلا قصد خارج ہو جائے تو معذوری ہے، ایسے شخص کو جس کیلئے دوسری جگہ سونے کی موجود ہو بلا شدید ضرورت کے مسجد میں سونا مکروہ ہے” لا يخرج فيه الريح من الدبر کمافي الاشباه واختلف فيه السلف فقيل لابأس وقيل يخرج اذا احتاج اليه وهو الاصح حموى عن الشرح الجامع الصغير اھ“ درمختار…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔