کسی کی دل جوئی کے لئے شعائر کو ترک کرنا
سوال
اگر کوئی فرد یا عامۃ المسلمین جو صاحب نصاب ہوں موجودہ وقتی ضرورت ملحوظ رکھتے ہوئے (برادران وطن یا ہمسایہ اقوام سے مرعوب یا خائف ہو کر نہیں) بلکہ ان کی دلجوئی، تعلقات ہمسائیگی خوشگوار پیدا کرنے، رفع شر یا دفع مضرت کے خیال سے، امسال بجائے گائے کے بکرے یا بھیڑ وغیرہ کی قربانی کر لیں تو شرعی یا دینی نقطۂ نظر سے کوئی حرج یا مضائقہ تو نہیں، یا صرف گائے ہی کی قربانی ضروری ہے، یا مصلحت وقت کے اعتبار سے بکرہ وغیرہ کی قربانی افضل و مناسب سمجھی جائے گی؟
جواب
کسی کی دلجوئی کی خاطر شعائر اسلام کو ترک کرنا ہرگز جائز نہیں، لہذا جب تک قدرت ہو تو ترک کرنا ممنوع ہوگا، دنیوی امور میں دلجوئی کی جاسکتی ہے، دینی امور میں اس کی گنجائش نہیں، خاص کر جبکہ آئندہ کو بالکل بند ہونے کا قوی خطرہ ہو، اب اگر کوئی دلجوئی کی گئی تو آئندہ اذان، جمعہ، عید وغیرہ سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔