قربانی کی اطلاع پولیس کو دینا
سوال
اوپر لکھی ہوئی مسمیان، ۱/تا۲/موضع شہورا تیو پوسٹ تھانہ وضلع مذکورالصدر کے ہیں، نیز مسمیان ۱/تا۴/موضع تبو کے رہنے والے جن کا پورا پتہ مذکور ہے، ان دونوں گاؤں کے درمیان فاصلہ ایک فرلانگ کا ہے، امسال بقر عید مورخہ ۲۰/مارچ ۶۸ھ کو ہوئی، مسمیان ۱/تا۲/ نے مورخہ ۲۰/مارچ ۶۸ء کو قربانی کی، چونکہ یوپی میں اکثریت کٹر قسم کے ہندؤں کی ہے، اس لئے وہاں کے مسلمانوں کو ضروری ہو گیا ہے کہ وہ مقامی ہندو باشندوں سے مل جل کر رہیں، اپنی طرف سے مسلمان ایسی کوئی بات نہ کریں، جس سے ہندؤں کے دلوں میں کسی قسم کا غیر فطری یا انتقامی جذبہ پیدا…
جواب
قطع نظر اس سے کہ ان چاروں افراد کا مذکورہ اقدام تعزیرات ہند کے خلاف ہے یا کہ نہیں، آپ نے از خود ہی جا کے شکایت اور چغلی کر کے ان کو گرفتار کرا دیا، یہ شکایت آپ نے قانون حکومت کے احترام کے جذبہ سے نہیں کی، بلکہ کاشتکاری پیشہ کی وجہ سے ہندؤوں سے مل جل کر رہنا ہوتا ہے، اگر وہ مشتعل ہو جائیں تو آپ کے کام اور پیشہ میں اندیشہ تھا، نیز فساد ہو کر دوسرے مسلمانوں کو بھی نقصان کا اندیشہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔