خطرۂ جان کے وقت قربانی نہ کرنا
سوال
آپ خوب واقف ہیں کہ ہندو قوم کو مسلمانوں کے ذبیحہ کے معاملہ میں سخت نفرت اور دشمنی ہے اور یہ بہت بڑا اختلافی مسئلہ ہے، پس ایسے حالات میں جب کہ شہر کی فضا حد درجہ مکدر و پر آشوب ہے، قربانی (جانور ذبح کرنے) کے بجائے اپنی حیثیت کے مطابق جانور یا نقد یا حصہ کی قیمت بقدر نقد رقم مساکین غرباء مدارس وغیرہ میں دی جاسکتی ہے، یا کسی اور قومی فلاح و بہبود کی مد میں صرف کی جاسکتی ہے، یا مقامی طور پر تباہ حال مظلوم مستحق مسلمانوں کو دی جاسکتی ہے، جیسا کہ یہاں کے حالات کا تقاضہ ہے؟
جواب
اگر قربانی کرنے میں جان کی قربانی دینی پڑے بغیر اس کے قربانی نہ کی جاسکے تو قربانی ترک کر کے ایام قربانی کے بعد ہر شخص مقدار واجب کی قیمت مستحقین غرباء کو صدقہ کر دے، خواہ تباہ حال مسلمان ہوں یا دیگر اقرباء فقراء طلبہ مستحق ہوں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔