الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

وضو کا بچا ہوا پانی

سوال

وضو کرنے کے لئے ایک لوٹا پانی جو درمیان وضو کے ختم ہو گیا۔ پھر دوبارہ پانی لے کر وضو تمام کیا تو اس بچے ہوئے پانی کو کھڑا ہوکر پینا بھی مستحب ہوگا یا نہیں۔ صرف وہی پانی پینا مستحب ہے جو ابتداء وضو کے لئے لیا گیا ہو اور اس میں سے بچ رہا ہو۔

جواب

وضو کا بچا ہوا پانی وہ ہے جو وضوء کے تمام ہونے کے بعد بچے لہذا پہلی مرتبہ لئے ہوئے پانی سے پینا جبکہ وضو نا تمام رہے اور دوسری مرتبہ پانی لینے کی نوبت آئے مستحب نہیں اور وضو کا بچا ہوا پانی پینا مطلقا مستحب ہے خواہ کھڑا ہو کر پیئے یا بیٹھ کر۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو