معذور کی نماز و امامت
سوال
(الف) میں ایک مرض میں عرصہ دراز سے مبتلا ہوں اور وہ ہے کثرت ریاح کا خروج ہر ۳/۲ / منٹ پر خروج ریاح ہوتا رہتا ہے، تو کیا میں فجر کے وضو سے نماز اشراق اور تلاوت قرآن پاک کر سکتا ہوں؟ یعنی ہوا کو روک کر رکھوں اور باوضو ر ہوں۔ (ب) جس گاؤں میں رہتا ہوں اس میں معمولی پڑھے لکھے لوگ ہیں، اکثر قراءت نماز میں غلط پڑھتے ہیں، اعضاء وضو خشک رہ جاتے ہیں، اور اس کی پرواہ نہیں کرتے، ایسے لوگوں کے پیچھے میری نماز درست ہوگی یا نہیں؟ اگر نہیں تو پنجگانہ نماز کی امامت کر سکتا ہوں یا نہیں؟
جواب
(ألف) جو شخص شرعاً معذور ہے اس کو ہر وقت کی نماز کے لیے وضو ضروری ہے، پھر وقت ختم ہونے سے اس کا وضو باقی نہیں رہے گا، فجر کا وضو سورج نکلنے سے ختم ہو جائے گا، اشراق کے لئے علیحدہ وضو کی ضرورت ہوگی، پھر اس وضو سے نوافل اور تلاوت کی اجازت ہوگی، حتی کہ ظہر کے لئے بھی جدید وضو کی ضرورت نہیں ہوگی، الا یہ کہ اس عذر کے علاوہ کوئی اور حدث پیش آجائے (ب)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔