مرغی کو کھولتے پانی میں ڈالنا ذبح کے بعد
سوال
انگلینڈ میں سرکاری مذبح خانوں میں مسلمان اپنی مرغیاں اپنے ہاتھوں سے اسلامی طریقے سے ذبح کرتے ہیں، غلاظت نکالے بغیر پیٹ چاک کئے بغیر آلائش کے نکالنے سے پہلے ذبح کرنے کے بعد گرم پانی میں مرغی کو ڈال کر مشین سے پھر صاف کرتے ہیں، پانی اتنی مقدار میں گرم نہیں ہوتا ہے کہ ہاتھ جل جائے، انڈے ابل جائیں، حتی کہ چمڑی تک میں اثر نہیں ہوتا ہے۔ اور مرغیوں کا چمڑہ بھی نکال دیا جائے تو کیا ان مرغیوں کا کھانا درست ہے؟ نوٹ : سرکاری طور پر یہ کام ضروری ہے، اس کے خلاف نہیں کر سکتے۔ (دار الافتاء فلاح دارین)
جواب
آپ نے سوال میں جس چیز کو بیان کیا ہے، اگر یہی صورت حال ہے تو ایسی مرغیوں کا گوشت کھانا کھلانا، تجارت کرنا، ہوٹل میں ایسی مرغیوں کا گوشت پکانا جائز ہے، اسلئے کہ ناپاکی کا أثر گوشت میں نہیں آیا لیکن اگر پانی کھولتا ہوا ہو، اور مرغی کو اتنے وقت کھولتے ہوئے پانی میں رکھا کہ گوشت نے اس پانی کو اچھی مقدار میں پی لیا اور باطن لحم میں اسکا أثر پہونچ گیا تو اس مرغی کا کھانا جائز نہیں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔