اپنے پیر پر جھوٹا مقدمہ چلانا
سوال
- ایک مرید کا تعلق اپنے پیر سے کیسا ہونا چاہیے۔ ایک شخص اپنے بڑے بھائی سے مرید ہے اور ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ چلاتا ہے اور پیر کے خلاف حلفیہ جھوٹا الزام لگاتا ہے اور پیر کے خلاف جھوٹی گواہی دیتا ہے لوگوں کے کہنے پر جواب دیتا ہے کہ ہم نے بھائی پر مقدمہ چلایا ہے۔ پیر پر نہیں۔ یہ مرید کا قول کہاں تک درست ہے۔ اس صورت میں مرید -فاسق و فاجر ہے یا نہیں؟ اور محبت پیر سے باقی ہے یا نہیں؟ اور مرید کے ہاتھ پر بیعت جائز ہے یا نہیں؟ فقط
جواب
مرید کا تعلق پیر سے ایسا ہونا چاہئے کہ وہ اپنے ذہن میں اعتقاد رکھے کہ اصلاح نفس اور تزکیہ باطن کے لئے مجھے سب سے زیادہ فائدہ میرے پیر سے پہنچے گا۔ اور میں اپنے پیر کی ہدایت پر عمل کرنے سے اپنے مولیٰ جل شانہ کی معرفت حاصل کر سکوں گا اور دنیا کی محبت و رغبت کم ہو کر آخرت کی رغبت زیادہ ہوگی اور حضرت رسول مقبول ﷺ کی محبت و اطاعت حاصل ہوگی، پیر کی ہدایت پر عمل نہ کرنے سے نفس کی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔