الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایک پیر صاحب کے خلاف شرع حالات

سوال

یہاں ایک فقیر آئے ہیں جو نامحرم عورتوں کو لے کر اپنے ساتھ بیٹھتے ہیں اور ان عورتوں سے اپنے ہاتھ پیر دبانے کی خدمت بھی لیتے ہیں، وہ عورتیں فقیر کی قدم بوسی کرتی ہیں۔ فقیر کہتے ہیں کہ اس کے بغیر مریدین فیضیاب نہیں ہوتے۔ فقیر اور ان کے اصحاب محلہ کی مسجد میں جماعت کے اندر شریک نہیں ہوتے۔ حالانکہ مسجد اور مکان کے درمیان دو تین منٹ کی مسافت ہے۔ وہ لوگ کہتے ہیں کہ تمام مسجد نا پاک ہے۔ کراسین تیل سے بتی جلتی ہے۔

جواب

حضرت نبی اکرم ﷺ نے عورت کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر مرید نہیں کیا۔ کسی نامحرم کے ساتھ تنہائی میں بیٹھنے سے منع فرمایا ہے جماعت کی نماز سنت مؤکدہ ہے واجب کے درجہ میں ہے۔ بلا عذر شرعی ترک جماعت شرعاً بہت مذموم ہے اور اس کی عادت ڈالنا قبیح ہے اور نفاق کی علامت ہے اس سے آدمی مردود الشہادۃ ہو جاتا ہے ذکر میں چیخ چیخ کر بڑے پیر کو پکارنا، تالی بجانا غلط طریقہ ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو