ایک پیر صاحب کے حالات تصوف
سوال
ایک عالم نے پارسال گاؤں میں آ کر تصوف کا بہت بڑا مدرسہ کھولا ہے اس میں مریدوں کا نام لکھ کر داخل کرتے ہیں اور روزانہ مریدوں کا نام پکارا جاتا ہے اور حاضری اور غیر حاضری کا نشان لگایا جاتا ہے سال میں دو مرتبہ ایک مرتبہ سات دن اور دوسری مرتبہ پانچ دن مدرسہ کھولا جاتا ہے۔ مجموعہ بارہ دن سال میں اپنے مریدوں کو تصوف کی تعلیم دیتے ہیں اور ایصال ثواب کی مجلس کرتے ہیں اور وعظ کرتے کراتے ہیں، اور علم تصوف کو بلا ضرورت فرضِ عین بتاتے ہیں۔
جواب
آپ نے روپیہ کمانے اور تجارت کرنے کا طریقہ تو سب لکھ دیا۔ لیکن یہ نہیں لکھا کہ وہ تصوف کی کیا تعلیم دیتے ہیں تا کہ اس کے جواز و عدم جواز پر غور کیا جاتا اور معلوم ہوتا کہ ایسا تصوف فرض عین ہے یا نہیں اور بغیر ایسی معرفت کے علم شریعت مکمل ہے یا غیر مکمل۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔