ایک شیعہ پیر کے عقائد وخیالات
سوال
ایک پیر مسمّٰی بہ قاتل معروف و مشہور ہے۔ تفتیش سے معلوم ہوا کہ وہ مذہب روافض سے تعلق رکھتا ہے۔ بناء علیہ وہ اہل سنت والجماعت کے عقائد فقہ کو محو اور نسیان کے گھاٹ اتار دینا واجب اور فرض عین سمجھتا ہے۔ شب و روز اسی بیخ کنی میں غوطہ زن ہے اور بھولے بھالے مسلمانوں کو اپنے باطل مذہب کا شکار بناتا اور گمراہ کرتا ہے۔ اس کے بہت لوگ مرید ہیں منجملہ ان کے چند افراد یہاں قصبہ بھوساور ریاست بھرتپور کے اندر بھی موجود ہیں جن کے ذریعہ اس مبطل کے عقائد باطلہ اور خبیثہ کا ظہور ہوتا ہے۔
جواب
بلا وجہ کسی کے متعلق یہ تحقیق و تفتیش کرنا یہ حرامی ہے یا حلالی ہے یہ جائز نہیں اور کسی پر بلا دلیل شرعی حرامی ہونے کی بدگمانی کرنا یا الزام لگا نا حرام ہے۔ اگر اسلامی حکومت ہو اور دوسرے شرائط بھی پائے جائیں تو الزام لگانے والے پر حد قذف جاری ہو جائے گی۔ وهو كحد الشرب كمية وثبوتا.
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔