بغیر اجازت وخلافت کے بیعت کرنا
سوال
زید حضرت مولانا شاہ وصی اللہ کا مرید ہے مگر اب وہ کچھ کام بدعت کے کرتا ہے۔ مثلاً قوالی سنتا ہے، گاگر اٹھاتا ہے۔ غرضیکہ عام بدعت جو ہر بریلوی خرافات کرتا ہے۔ مگر زید اب بھی اپنے کو دیوبندی کہتا ہے اور نہ زید کو خلافت ملی مگر مرید کرتا پھرتا ہے۔ کیا ان بدعات پر اس کو صحیح العقیدہ اہل سنت کہا جا سکتا ہے؟ کیا وہ مرید کرنے کا بھی حق رکھتا ہے؟ یا زید دعا تعویذ کا پیسہ لیکر کھا سکتا ہے۔ لہذا صحیح صورت حال جو ہو وہ احادیث کی روشنی میں جواب سے نوازیں۔
جواب
جب کہ اس کو اجازت بیعت حاصل نہیں ہے اور وہ بدعات میں مبتلا ہے اس سے بیعت ہونا درست نہیں ہے۔ کیونکہ بیعت کا مقصود اصلاح نفس اور تزکیہ باطن ہے۔ شخص مذکور خود اصلاح کا محتاج ہے وہ کسی کی کیا اصلاح کرے گا۔ بلکہ جن غیر شرعی امور میں مبتلا ہے اس سے مرید ہونے والے بھی ان میں مبتلا ہوں گے اور بجائے اصلاح کے نفس میں خرابی پیدا ہوگی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔