سحری وافطار کے وقت ڈھول بجانا
سوال
کیا سحری و افطار و نماز جمعہ وعیدین کے لئے جمع ہونے کے واسطے کوئی باجا یا دف یا نقارہ یا ڈھول یا بارود کا گولہ یا گھنٹہ بجانا درست ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو تمام باجے یا کوئی خاص باجہ مثلاً دف اور جملہ امور شادی بیاہ بارات نکاح کے لئے جائز ہے، یا صرف وہی امور مثل مذکورہ بالا کے لئے جائز ہے؟
جواب
سحر کا یا افطاری کا اگر وقت معلوم نہ ہوتا ہو اور روزوں کے فساد کا اندیشہ ہو، تو نقارہ بجانا یا گھنٹہ بجانا گولہ بنانا درست ہے، لیکن مسجد یا اس کی چھت پر نہیں چاہئے، بلکہ مسجد سے ہٹ کر کسی دوسرے مکان یا بلند مقام پر چاہئے کیونکہ یہ چیز احترام مسجد کے خلاف ہے، نماز کیلئے شریعت نے اذان مقرر فرمادی ہے، لہذا اس کے لئے ان چیزوں کی ضرورت نہیں، نماز عید کے وقت کا پہلے سے اعلان کر دیا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔