روزہ کس چیز سے افطار کیا جائے؟ اور نمک و ادرک سے افطار کرنا
سوال
ہمارے یہاں لوگ نمک و ادرک سے یا چاول ادرک و نمک سے افطار کرتے ہیں اور اس کو شریعت سمجھتے ہیں، یہاں تک کہ اگر کہیں جاتے ہیں اور لوٹنے میں راستہ میں افطار کرنا ہوگا، یہ سمجھ کر تھوڑا چاول و نمک باندھ لیتے ہیں، اسے ایک صاحب نے بے بنیاد اور بدعت کہا ہے اور کہا ہے کہ افضل خرما سے پھر میٹھی چیز سے پھر پانی سے افطار کرنا ہے، ان صاحب کا یہ کہنا صحیح ہے یا غلط؟
جواب
نمک یا ادرک یا چاول سے افطار کو سنت یا مستحب سمجھنا اور اس کو حکم شرعی تصور کرنا غلط اور بے اصل ہے ابو داؤد شریف اور ترمذی شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ کھجور سے افطار کرنا سنت سے ثابت ہے اور اگر کھجور میسر نہ آئے تو خشک چھوارے سے وہ بھی نہ ہو تو پانی سے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔