طلوع وغروب کے وقت نماز پڑھنے کی مخالفت کی وجہ
سوال
حدیث شریف میں طلوع شمس اور غروب شمس کے وقت نماز پڑھنے کی ممانعت آئی ہے اور ممانعت کی وجہ طلوع شمس بین قرنی الشیطان جس کی وجہ سے شیطان کی عبادت کا شبہ معلوم ہوتا ہے۔ پھر یہ حکم عام کیوں ہے؟ اس وجہ سے کہ جو لوگ خانہ کعبہ سے مشرق کی جانب رہتے ہیں، تو ان کے لیے غروب آفتاب کے وقت ممانعت سمجھ میں آتی ہے اس لئے کہ سورج مصلی کے سامنے ہوتا ہے، مگر طلوع کے وقت یہ بات سمجھ میں نہیں آتی جو کہ سورج وقرن شیطان اور شیطان مصلی کے پیچھے ہوتے ہیں، تو اس صورت میں بجائے شیطان کی تعظیم کے توہین و تذلیل ہوتی ہے، جس طرح اگر تصویر مصلی…
جواب
طلوع، استواء، غروب کے وقت نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے اسلئے کہ یہ اوقات عبدة الشمس کے عبادت کے اوقات ہیں تشبہ فی الوقت کی بناء پر منع کیا گیا ہے، یہ مقصود نہیں ہے کہ سورج کو سجدہ کرنا لازم آتا ہے، یا سورج کے قریب شیطان یہ دیکھ کر خوش ہوتا ہے کہ مجھے سجدہ کیا جا رہا ہے، ورنہ جو اشکال آپ نے مشرق اور مغرب کے رہنے والوں پر ایک ایک شق لیکر تقسیم کر دیا ہے، (شمال و جنوب والوں کو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔