امام سے گالی گلوچ اور اس پر تہمت لگانا
سوال
(۱) کوئی مقتدی اپنے امام کے ساتھ گالی گلوچ کر کے اغلام کی تہمت لگائے اور پھر اس کے پیچھے نماز پڑھے تو کیا اس کی نماز ہوگئی؟
جواب
گالی گلوچ تو سب کے ہی ساتھ منع ہے، پھر امام کا احترام تو اور زیادہ ضروری ہے، اور بلا ثبوت شرعی اتنی بڑی بات کہنا بہت بڑا جرم ہے سخت گناہ ہے، معافی مانگنا واجب ہے، تاہم جس امام پر اتنی بڑی تہمت لگائی اور اس سے معافی نہیں مانگی اور نماز اس کے پیچھے پڑھی فرض اس کا بھی ادا ہو گیا، نماز صحیح ہو گئی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔