امام کو احتلام ہوا دو روز اسی طرح نماز پڑھا دی کیا معلوم ہونے پر مقتدیوں کو خبر کرنا ضروری ہے
سوال
امام کو رات میں احتلام ہو گیا، اور خبر نہ ہوئی دو دن تک اسی حالت میں نماز پڑھاتا رہا، بعدۂ اطلاع ہوئی تو اب دو دن کی نماز کا اعادہ کرے یا نہیں اور مقتدیوں کو اعادہ کی اطلاع دے یا نہیں کیونکہ اطلاع کرنے میں امام پر سے اعتبار اٹھ جانے کا اندیشہ ہے ویسے تو امام محتاط آدمی ہے، اسی طرح کسی نے ناپاک کپڑا اوڑھ کر نماز پڑھی اور بعد میں اطلاع ہوئی تو پڑھی ہوئی نماز کا اعادہ کرے یا نہیں؟
جواب
اگر اس کو یقین ہے کہ دو روز پہلے احتلام ہوا تھا (مثلاً اسی طرح کہ جس کپڑے میں اس کا اثر ہے وہ دوروز سے سوتے وقت استعمال نہیں کیا) تو دوروز کی نمازوں کا اعادہ لازم ہوگا، اس کے ذمہ واجب ہے کہ سب مقتدیوں کو اس کی خبر کر دے، ورنہ سب کی نماز کا وبال اس پر رہے گا، اگر اس کو یقین نہیں کہ احتلام کب ہوا تھا، تو جس وقت اس کا اثر دیکھا تو اس سے پہلے جب سورہا تھا کہا جائے گا کہ اس وقت…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔