پندر دن کے قیام کی نیت سے سفر کرنے والا راستہ میں قصر کرے
سوال
اگر ایک آدمی سفر کرتا ہے تو اس کے بارے میں حکم ہے کہ وہ راستہ میں قصر کرے تو کیا ہر حال میں قصر کرے گا یا مخصوص وقت میں کہ جو شخص پندرہ دن کی نیت کر کے سفر کرے صرف وہی قصر کرے۔ مگر یہ تو اتفاقی مسئلہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کوئی پندرہ دن یا زائد کی نیت کر کے چلتا ہے تو وہ راستہ میں قصر کرے گا یا نہیں؟
جواب
جو شخص تین منزل کی مسافت ۴۸ رمیل کا ارادہ کر کے سفر کرے وہ راستہ میں قصر کرے گا لیکن اگر راستہ میں ۴۸ سے پہلے پندرہ روز یا زائد ایام ٹھہرنے کا ارادہ ہو تو راستہ میں قصر نہیں کرے وہ شرعی مسافر نہیں اسی طرح اگر ابتداء ۴۸ رمیل سے کم کی نیت سے چلا اور کسی جگہ ٹھہر گیا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔