مسافت شرعیہ طے کرنے کے بعد قصر کرے یا اس سے پہلے بھی قصر درست ہے
سوال
زید نوگوان سے سنبھل کو چلا جو کہ ۴۸ رمیل سے زیادہ ہے۔ اگر زید براہِ راست سنبھل کو جائے تو اس صورت میں تو قصر کرے گا۔ لیکن اگر اس شکل سے چلے کہ منتہائے سفر تو سنبھل رہے لیکن درمیان کے مواضع میں دس میل کے فاصلہ سے رات کو قیام کرتا ہوا جاوے گا تو کیا ایسی صورت میں بھی قصر کرے گا؟ بنابریں اگر جماعت تو نوگوان سے چلے اور اسے تین دن قیام کرنا ہے۔ ایک دن تو امروہہ جو کہ دس میل ہے دوسرے مراد آباد جو کہ بیس میل ہے۔ تیسرے سنبھل جو کہ نوگوان سے اڑتالیس میل سے زائد ہے۔
جواب
سفر شرعی کی مسافت کم از کم ۴۸ رمیل ہے جب اس مسافت کی نیت سے سفر شروع کیا جائے تو قصر لازم ہے اگر چہ درمیان میں تین چار جگہ ٹھہرتے ہوئے جانا ہو۔ مگر ٹھہرنے کی مدت پندرہ یوم سے کم ہو۔ پس نوگوان سے سنبھل کی نیت سے چلنا جس کی مسافت ۴۸ رمیل سے زائد سفر شرعی ہے اگر چہ نوگوان سے چل کر دس بیس میل پر ایک دو شب کا قیام بھی منوی ہو۔ اس سے سفر کے احکام میں فرق نہیں آتا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔